زبُور - باب 137

123456789101112131415161718192021222324252627282930313233343536373839404142434445464748495051525354555657585960616263646566676869707172737475767778798081828384858687888990919293949596979899100101102103104105106107108109110111112113114115116117118119120121122123124125126127128129130131132133134135136137138139140141142143144145146147148149150
← پچھلا اگلا →
1 ہم بابل کی ندیوں پر بیٹھے اور صیِؔوُن کو یاد کر کے روئے۔
2 وہاں بَید کے درختوں پر اُنکے وسط میں ہم نے اپنی سِتاروں کو ٹانگ دیا۔
3 کیونکہ وہاں ہمکو اسیر کرنے والوں نے گیت گانے کا حُکم دیا۔ اور تباہ کرنے والوں نے خُوشی کا اور کہا صیِوُؔن کے گیتوں میں سے ہمکو کوئی گیت سُناؤ ۔
4 ہم پردیس میں خُداوند کو گیت کیَسے گائیں؟
5 اَے یروشؔلیم ! اگر میں تجھے بھُولوُں تو میرا دہنا ہاتھ اپنا ہُنر بھوُل جائے۔
6 اگر میَں تجھے یاد نہ رکھوں اگر میَں یروشؔلیم کو اپنی بڑی سے بڑی خُوشی پر ترجیح نہ دوں تو میری زُبان میرے تالو سے چپ جائے۔
7 اَے خُداوند! یروشؔلیم کے دِن کو بنی ادوؔم کے خلاف یاد کر جو کہتے تھے اِسے ڈھادو۔ اِسے بنیاد تک ڈھا دو۔
8 اَے بابل کی بیٹی! جو ہلاک ہونے والی ہے۔ وہ مُبارِک ہو گا جو تجھے اُس سُلوُک کا جو تُو نے ہم سے کیا بدلہ دے۔
9 وہ مُبارک ہو گا جو تیرے بچوں کو لے کر چٹان پر پٹک دے۔
← فہرست پر واپس جائیں